Ads

کراچی کی فریاد کون سنے گا؟

کراچی کو مسائلستان پکاراجائے تو بے جا نہ ہوگا،کیونکہ اس وقت شہرناپرساں کے باسی جس اذیت وکرب سے دوچار ہیں، ان کو الفاظ کا روپ دینا یا بیان کرنا انتہائی مشکل امر ہے۔ بارش برسی، تو شہریوں کے مسائل میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، ندی نالوں کی صفائی نہ ہونے کے سبب شہر میں جگہ جگہ پانی جمع ہوجاتا ہے،گٹر ابلنے لگتے ہیں، یہ سب اس تواتر سے ہوتا ہے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ  اس شہرکا کوئی وارث نہیں ہے، کوئی ضلع، صوبائی اور وفاقی انتظامیہ وجود نہیں رکھتی ہے۔

صرف دو تین روزکی ہلکی پھلکی بارش کے نتیجے میں کرنٹ لگنے کے واقعات میں متعدد قیمتی جانوں کا ضیاع ہوجاتا ہے اور مرے پر سو درے کے مصداق بجلی کی پندرہ سے سولہ گھنٹے کی غیر علانیہ لوڈشیڈنگ شہریوں کا جینا دو بھرکردیتی ہے۔ یہ سب کچھ ہوتا ہے، تو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا سلسلہ بھی شدومد سے شروع ہوجاتا ہے، قومی اسمبلی میں اس کی گونج سنائی دیتی ہے،الزامات در الزامات کا سلسلہ درازہوجاتا ہے۔ تحریک انصاف اور اس کے اتحادی جماعتوں کے اراکین اسمبلی کراچی میں مشترکہ دھرنا دیتے ہیں تو ایم کیوایم پاکستان اسلام آباد میں دھرنے دینے کا اعلان کرتی ہے۔

یہ سب ایک طرف،دوسری جانب ایک عام شہری کے روزمرہ معمولات بری طرح متاثر ہوتے ہیں،گھر میں پانی ہے نہ بجلی۔ کورونا کے جو مریض آئسولیٹ ہیں یا دیگر سنگین بیماریوں میں مبتلا ہیں وہ تڑپ رہے ہیں۔کراچی کے عوام کس در پر جائیں؟ کس سے فریاد کریں ان کے مسائل کون حل کرے گا، یہ ایک ایسا چبھتا ہوا سوال ہے جس کا جواب ہماری سیاسی قیادت نے دینا ہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومتیں کراچی کے عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لیے مشترکہ طور پر ایک لائحہ عمل طے کریں تاکہ شہریوں کو ریلیف مل سکے۔

The post کراچی کی فریاد کون سنے گا؟ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/2W7t0Kc
Share on Google Plus

About Unknown

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.
    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment