وزیر اعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے کیسز میں معمولی اضافہ کے بعد ہدایت کی ہے کہ سردیوں میں کورونا کی دوسری لہر سے تحفظ کے لیے فیس ماسک کے استعمال کو یقینی بنایا جائے، وزیراعظم کا ایک ٹویٹ میں کہنا تھا کہ سردیوں میں دوسری لہر آ سکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس لہر کی آمد زیادہ دور نہیں ہوگی، اکتوبرکے آخر یا نومبرکے اوائل میں وائرس کے ’’اسٹرائیک بیک ‘‘ کے خدشات زیادہ ہوسکتے ہیں جس کے لیے صحت حکام کی آگہی ناگزیر بھی ہے اس سماجی صورتحال کا ادراک بھی جس سے ملک مارچ 2020کے دوران طویل مشکلات سے گزرا اور معیشت سمیت زندگی کے تقریباً تمام شعبے شدید متاثر رہے اور نظام تعلیم میں تعطل نے درس وتدریس کو ساکت وجامد کردیا۔
اگرچہ آن لائن تعلیمی اقدامات اورانتظامات ان تعلیمی اداروں نے حتی الامکان کیے جنھیں نیٹ اور لیپ ٹاپ وغیرہ کی سہولتیں دستیاب تھیں مگر غریب اور متوسط طبقہ کے طلبا وطالبات کو بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تناظر میں وزیراعظم نے تمام اداروں، حکام اور تعلیمی اداروں کو درحقیقت خبردار کردیا کہ کورونا کی دوسری لہر کے پیش نظر ہرکوئی ماسک پہننے کو یقینی بنائے اور سماجی فاصلے کی پابندی کو معمولات زندگی سے منسلک کرے ، احتیاطی تدابیر کورونا کو قریب آنے سے روکنے میں مدد دیں گی۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دیگر ممالک کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ پاکستان پر مہربان ہے اور اس کو وبا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھا ہے، تاہم انھوں نے سردیوں میں دوسری لہر کے آنے کا جو خدشہ ظاہر کیا ہے وہ اس بات کا عندیہ ہے کہ حالات کورونا کے پہلے حملہ سے اگر زیادہ مختلف نہ بھی توہوئے تو بھی احتیاطی تدابیر اور مکمل میکینزم اور حاصل شدہ تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں صحت حکام ایسے اقدامات اورانتظامات کو یقینی بنائیں جس سے کورونا کی تباہ کاریاں عوام کو دوبارہ کسی بڑی مشکل میں نہ ڈال دیں۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق پنجاب میں99ہزار 814، سندھ ایک لاکھ38ہزار 341، خیبرپختونخوا38ہزار 76، بلوچستان15ہزار 371، اسلام آباد16ہزار 766، گلگت بلتستان 3828 اور آزاد کشمیر میں2862 مریض رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اسلام آباد میںکورونا کے63 نئے کیسز سامنے آئے جب کہ ایک مریض دم توڑگیا۔دریں اثناء وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق کی زیر صدارت اجلاس میں آزادکشمیر میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ آزادکشمیر بھر میں دوبارہ لاک ڈاؤن کیا جائے گا۔
کورونا وائرس کے عفریت سے ایک عالمگیر حقیقت واضح ہوچکی کہ یہ اکیسویں صدی کا سب سے ضدی اور ہولناک وائرس ہے جس نے دنیا کے ترقی یافتہ ترین ملکوں کے اعصاب جھنجھوڑ کر رکھ دیے، پاکستان کی معیشت تو اس نے ایسے اچھال کر رکھ دی کہ آج تک ملکی اقتصادی، سیاسی، سماجی اور تجارتی وکاروباری حالات حکومت کے قابو میں نہیں آرہے۔
کورونا سے پہلے بلاشبہ حکومت سماجی و اقتصادی صورتحال کو سنبھالنے کی کثیر جہتی کوششیں کرتی رہی، سیاسی وسماجی جدلیات اور ڈائنامکس کے تقاضوں اور دباؤ سے نکلنا آسان نہ تھا ،اپوزیشن اور حکومت کے مابین کورونا لاک ڈاؤن کی حکمت عملی بھی غضبناک بھینسوں کی لڑائی میں بدل گئی تھی، کاروباری طبقہ کورونا سے پریشان تھا،صنعتی، تجارتی سرگرمیاں ٹھپ پڑی تھیں، کارپوریٹ ادارے اور کثیر القومی کمپنیاں اپنے ٹارگٹس مکمل کرنے میں مصروف رہیں، بجلی،گیس،ٹرانسپورٹ ،روزگار اور مہنگائی کی گھمبیرتا نے سیاسی بریک تھرو کا کوئی مربوط موقع نہیں دیا۔
دیہاڑی دار مزدور سے لے کر ملازمت پیشہ لوگ کورونا کی شدت کے سامنے لاچار ہوگئے تھے، سرکاری اسپتالوں کی حالت پتلی تھی، علاج کی سہولت سے محروم ہزاروں خاندان کورونا سے پہلے معاشی اعتبار سے کسی غیبی امداد کے منتظر تھے کہ کراچی کو مون سون کی موسمیاتی بارشوں نے پچھاڑ دیا، ایسی بارش لوگوں نے دیکھی جو ایک سو سال کا ریکارڈ توڑ گئی، شہر قائد کا پورا انفرااسٹرکچر تباہ وبرباد ہوا، شہر کورونا کے دوران کچرے اور غلاظت کے بلدیاتی مسائل سے نبرد آزما تھا۔
وہ سالڈ ویسٹ کے چیلنجز سے نمٹنے میں مصروف تھا کہ یکے بعد دوسرے اور تیسر ے اسپیلز سے شہر کے نکاسی وفراہمی آب کے سسٹم کی سانس اکھڑ گئی، سارا شہر ڈوب گیا، محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی تھی کہ شہر میں خلاف معمول ہولناک بارشوں کا خطرہ ہے، پھر ایسا بھی ہوا کہ کراچی کے بڑے پوش علاقے کے شاندار بنگلے بھی زیرآب آگئے، کئی دن تک پانی گھروں میں موجود رہا، پہلی بار غریب آبادیوں نے دیکھا کہ ارب پتی گھرانے گھروں کو ڈوبتا دیکھ کر احتجاجی مظاہرے پر مجبور ہوئے، ان مائل بہ احتجاج مکینوں کے خلاف پولیس نے پرچے بھی کاٹے، لیکن یہ افتاد صرف کراچی کے حصے میں نہیں آئی بلکہ مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں نے لاہور ، کراچی، پختونخوا ، بلوچستان اور سندھ کے دیگر شہری و دیہی علاقوں اور دیگرشہروں کو بھی نہیں بخشا ۔ اربن ماہرین نے اس ساری صورتحال کو کورونا سے بالاتر ہوکر دیکھنے کی کوشش کی۔
جو صائب انداز فکر تھا، ان ماہرین کا کہنا تھا کہ کراچی جو ملک کا کثیر جہتی معاشی حب اور اقتصادی شہ رگ ہے اسے نکاسی آب کا کوئی قابل اعتبار، مستحکم میکنزم بھی نصیب نہیں ہوا، برس ہا برس کی بارشوں، اور سیلاب کے بعد بھی کسی جمہوری اور غیر جمہوری حکومت نے ملک کو ایک آہنی انفرااسٹرکچر اور ماس ٹرانزٹ سسٹم نہیں دیا، البتہ پنجاب میں لاہور کے بلدیاتی اور شہری کام گزشتہ دور حکومت میں حوالہ کے طور پرسامنے آئے ، یہی تقابلی زریں حوالے کراچی کے ماضی سے بھی سامنے لائے گئے مگر رفتہ رفتہ پولیٹیکل اسٹرکچر کے جتنے جوڑ تھے وہ گھستے ،سرکتے،ٹوٹتے اور مسمار ہوتے چلے گئے، مزید برآں بلدیاتی نظام کے نہ ہونے کا بھیانک نتیجہ بھی کراچی نے دیکھ لیا، کہیں چلے جائیے۔
آپ کو بلوچستان میں پبلک ٹرانسپورٹ کا متمدن سفری سسٹم نہیں ملے گا ، بلوچستان میں کراچی سے تربت گوادر اور کوئٹہ تک لگژری بسیں چلتی ہیں،مگر بلوچستان کے عوام کو انٹرسٹی بسوں اور کوچز کی سہولت حاصل نہیں،چنانچہ کسی غریب خاندان کو کہیں دور رشتہ داروں سے ملنا ہو تو اورماڑہ، جیونی، گوادر،تربت،مستونگ، وندر، لسبیلہ، حب اور دیگر اندرونی علاقوں میں صوبائی حکومت کی کوئی ٹرانسپورٹ میسر نہیں۔
یہی صورتحال دیگر نجی یا سرکاری اداروں،محکموں اور کارپوریٹ اداروں کی سروسز کی ہے، ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بجلی کا نظام سالہا سال سے کنڈا سسٹم کے نام پر مطعون ہے، پہلے کے ای ایس سی کے نام سے ادارہ تھا، آج وہی کے الیکٹرک ہے، مگر کنڈا سسٹم اور بجلی چوری یا لائن لاسز کے خاتمہ کے لیے کوئی سائنسی، تکنیکی اور شفاف میکنزم اپنایا نہیں جاتا،انٹیلی جنس بیسڈ اقدامات کی ضرورت ہے، بجلی چوری کی وبا ملک گیر ہے، کراچی میں بلنگ کا مسئلہ پیچیدہ ہے، کوئی کنڈا سسٹم کی اصلاح پر راضی نہیں ، لیاری ٹاؤن کو مائی کولاچی کے وارث ہونے کا اعزاز حاصل ہے لیکن یہ بجلی کے نظام کا بڑا ستم رسیدہ ہے، جہاں پابندی سے بل دینے والوں کو کنڈا استعمال کرنے والوں کے جرم کا حساب بھی دینا پڑتا ہے۔
بجلی دو دو تین تین گھنٹے کے لیے جاتی ہے، دن بھر پچاس فیصد بجلی آتی نہیں مگر بل دس ہزار سے بیس ہزار تک کے جاری ہوتے ہیں، حکومت ، وفاقی ادارے اور صوبائی حکومت کے انرجی ماہرین سے مل کر بجلی سسٹم کو ایک میکنزم سے مربوط کرسکتی ہے، کنڈا سسٹم ختم کیا جاسکتا ہے، بجلی بل معقول اور مناسب شرح سے صارفین کے نام جاری ہوسکتے ہیں، لیکن صارفین کا کہنا ہے کہ بجلی کاکنکشن لینے سے زیادہ ماہانہ بل کی درستگی ایک اذیت ناک مرحلہ ہوتا ہے، بجلی چوری کرنے والے مطمئن ہیں کہ ان کی چوری کی ہوئی بجلی کا بل دوسرے ستم رسیدہ صارف کو بھرنا پڑتا ہے۔
کراچی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا، کاروبار کے حوالہ سے یہ ملک کا سب سے بڑا تجارتی مرکز اور معاشی انجن ہے، گزشتہ دنوں بورڈ آف ریونیو کی ریکوری کے اعتبار سے حکومت کو شہر کی مارکیٹوں سے اربوں روپے کے محصولات ملے، اگر بجلی کا شفاف نظام متعارف ہو،کنڈا سسٹم کا خاتمہ ہو، تو یہی رقم دگنی ہوسکتی ہے۔
دوسری طرف گیس کی قلت نے بھی شہر قائد کے صارفین کو مشکلات میں ڈال دیا ہے، اپرگزری کے بعض تجارتی و رہائشی آبادیوں میں گیس کی فراہمی غیر علانیہ بند ہے۔ خیبرپختونخوا میں بھی بجلی چوری کی وبا کا سدباب نہیں ہورہا، جہاں تک پبلک ٹرانسپورٹ کا تعلق ہے ، کراچی لاہور،پنڈی، بلوچستان اور پنجاب سے پیچھے ہے، سندھ حکومت بی آر ٹی کی بسوں میں آگ لگنے کی شکایت کے مزے تو لیتی ہے لیکن شہرقائد میں نئی بسیں سڑکوں پر لانے کے لیے اپنے وعدے وفا کرنے کو تیار نہیں، کراچی کو ریپڈ ڈبل ڈیکر اور کوچز کی ضرورت ہے، تین کروڑ آبادی کے اس میٹروپولیٹن سٹی کو بابا آدم کے زمانے کی بسوں اور منی بسوں کی سوغات ملی تھی سو اسی پر گزارا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ وزیراعظم کورونا کی دوسری لہر سے محتاط ہونے کے لیے جس دل سوزی کے ساتھ اپیل کررہے ہیں وہ کراچی شہر کے انفرااسٹرکچر کے لیے گیارہ سو ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کے اعلان کو بھی شرمندہ تعبیر بنائیں ، انھیں کراچی کے لیے ماسٹر پلانز کی مانیٹرنگ اور ٹاسک فورسز اور فعال کمیٹیوں کے جلد روبہ عمل لائے جانے کو یقینی بنانے کا عہد کرنا چاہیے، سیاسی اور سماجی ماحول مائع حالت میں ہے،اس کے پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے، کراچی کو منظم و مربوط سسٹم کی ایک شفاف بنیاد درکار ہے ۔ماہرین کے مطابق شور تھمے گا تب ہی کراچی کا مقدر جاگے گا۔
The post کراچی کی رونقیں بحال کی جائیں appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو https://ift.tt/34rYGgL
0 comments:
Post a Comment