Ads

ہنگری میں ہزاروں ہم جنس پرست سڑکوں پر نکل آئے، مساوی حقوق کا مطالبہ

ہنگری میں ہزاروں ہم جنس پرست سڑکوں پر نکل آئے، مساوی حقوق کا مطالبہ

بوداپست: ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان کی سخت قانون سازی کیخلاف ہزاروں ہم جنس پرست احتجاجاً سڑکوں پر نکل آئے اور مساوی حقوق کے حصول کے لیے شدید نعرے بازی کی۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ہنگری کے دارالحکومت میں 10 ہزار کے قریب ہم جنس پرستوں نے پرائیڈ ریلی کی جس میں شرکاء نے وزیراعظم وکٹر اوربان سے ہم جنس پرستی کے خلاف قانون واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اُٹھا رکھے تھے، جس میں ہم جنس پرست جوڑوں کو بچہ گود لینے سمیت بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی اور اپنی شناخت کو فخریہ ظاہر کرنے کے لیے قانون سازی کے مطالبے بھی درج تھے۔

یہ خبر بھی پڑھیں : ہنگری میں ہم جنس پرستی کیخلاف قانون پر ریفرنڈم کا اعلان 

ریلی کا انعقاد وزیر اعظم وکٹر اوربان کی جانب سے ملک میں ہم جنس پرستی کی حوصلہ شکنی کے لیے کی جانے والی قانون سازی پر ریفرنڈم کرانے کے اعلان کے بعد کیا گیا۔ اس قانون کے تحت ہم جنس پرستی کے فروغ کو روکنے کے لیے ان کے جھنڈے، لوگوز اور نعروں پر پابندی لگائی گئی تھی۔

یہ خبر پڑھیں : ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی حیثیت نہیں دے سکتے، روسی صدر 

علاوہ ازیں وزیر اعظم وکٹر اوربان نے ہم جنس پرست جوڑوں پر بچوں کو گود لینے پر پابندی عائد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا اس عمل سے بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : یورپی یونین کا ہم جنس پرستوں کے حقوق کا تحفظ نہ کرنے پر پولینڈ کیخلاف کارروائی پرغور 

ہنگری میں ہم جنس پرستی کے خلاف ان قوانین پر یورپی کمیشن نے دھمکی دی تھی کہ اگر یہ قوانین واپس نہ لیے گئے تو ہنگری کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس سے قبل یورپی عدالت روس پر ہم جنس پرستوں کو شادی کو قانونی حیثیت دینے کے لیے بھی دباؤ ڈال چکی ہے۔

The post ہنگری میں ہزاروں ہم جنس پرست سڑکوں پر نکل آئے، مساوی حقوق کا مطالبہ appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/3kSPfk5

via Blogger https://ift.tt/3kXWNSH
July 25, 2021 at 03:55AM
Share on Google Plus

About Unknown

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.
    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment