Ads

کے ٹو فتح کرنا موت کو دعوت کے برابر تھا، نیپالی کوہ پیما

اسلام آباد: دنیا کی بلند ترین پہاڑی چوٹی کے ٹو فتح کرنے والے نیپال کے نمبرون کوہ پیما نرمل پرجا نے کہاکہ سرد ترین موسم میں کے ٹو کی چوٹی کو فتح کرنا موت کو دعوت دینے کے برابر ہے۔

نیپال کے نمبرون کوہ پیما نرمل پرجا کا کہنا ہے کہ نیپال اور پاکستان دو بھائیوں جیسے ملک ہیں، ہم نیپالی پاکستانیوں کو اپنا بھائی اور دوست سمجھتے ہیں لیکن نیپال میں موجود پاکستان کا سفارت خانہ ہمیں ویزا کی آسان سہولت مہیا نہیں کرتا ہے ہمیں پاکستانی ویزا کے لئے چھ چھ ماہ انتظار کرنا پڑتا ہے، اس کے مقابلے میں ہر پاکستانی کو آسانی سے ویزا دے دیتے ہیں۔

ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سرد ترین موسم میں کے ٹو کی چوٹی کو فتح کرنا موت کو دعوت دینے کے برابر ہے لیکن جب کوئی کامیابی کا ارادہ کرلے تو کامیابی یقنیی ہے۔عالمی کامیابی کے بعد پاکستان کا وقار دنیا بھرمیں بلند ہوا ،پاکستان امن کا گہورا ہے۔

نرمل پرجا نے کہاکہ حکومت پاکستان کو ہمارے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہئے ہم الپائن کلب آف پاکستان کے گائیڈز کو تربیت دینے کے لئے تیار ہیں پاکستان سپورٹس کمپلیکس میں نیپالی کوہ پیماؤں میں سرٹیفکیٹس تقسیم کرنے کی پر وقار تقریب میں نیپال کے سفیر تاپاس ایدکاری، گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت راجہ ناصر، پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر ، صدر الپائن کلب آف پاکستان ، قرار حیدری، ملک مہربان اور کثیر تعدادمیں شائقین موجود تھے۔

وزیر سیاحت گلگت بلتستان راجا ناصر علی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سردیوں میں گلگت بلتستان میں سیاحت کو فروغ دے رہے ہیں،نیپالی کوہ پیماوں نے تاریخ رقم کی ہے۔ انہوںنے کہاکہ نیپالی حکومت سے مزید سیاحت سے متعلق معاہدے کر رہے ہیں۔

نیپالی سفیر تاپس ادھیکاری نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ روز صدر پاکستان عارف علوی سے مفید ملاقات ہوئی، پاکستان حکومت کیساتھ نیپال کے دوستانہ تعلقات ہیں،نیپال اور پاکستان مل کر سیاحت کو فروغ دیں گے۔

 

The post کے ٹو فتح کرنا موت کو دعوت کے برابر تھا، نیپالی کوہ پیما appeared first on ایکسپریس اردو.



from ایکسپریس اردو https://ift.tt/366E3s1
Share on Google Plus

About Unknown

This is a short description in the author block about the author. You edit it by entering text in the "Biographical Info" field in the user admin panel.
    Blogger Comment
    Facebook Comment

0 comments:

Post a Comment